الفرق بين المراجعتين لصفحة: «مسودة:امام زمانہ ع اور لمبی عمر»

من ویکي‌وحدت
لا ملخص تعديل
سطر ٥: سطر ٥:


== عقلي اور سائنسی روسے ==
== عقلي اور سائنسی روسے ==
عقلی اور سائنسی اعتبار سے انسان کی عمر طولا نی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، نہ ہی عقلی اعتبار سے یہ نا ممکن ہے اور نہ سائنسی رو سے بعید ہے بلکہ سائنسی رو سے طول عمر کے لیے کی جانے والی انسانی کوشیشں اب تک نتیجہ خیز رہی ہیں اور اس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہے ۔ اور آج تک سائنسدانوں نے انسان کی طبیعی عمر کے لئے کوئی حتمی سرحد معیں نہیں کی ہے، اس بارے میں مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں <ref>آیہ اللہ صافي، نوید امن وامان، ص٢٦١</ref
عقلی اور سائنسی اعتبار سے انسان کی عمر طولا نی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، نہ ہی عقلی اعتبار سے یہ نا ممکن ہے اور نہ سائنسی رو سے بعید ہے بلکہ سائنسی رو سے طول عمر کے لیے کی جانے والی انسانی کوشیشں اب تک نتیجہ خیز رہی ہیں اور اس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہے ۔ اور آج تک سائنسدانوں نے انسان کی طبیعی عمر کے لئے کوئی حتمی سرحد معیں نہیں کی ہے، اس بارے میں مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں <ref>آیہ اللہ صافي، نوید امن وامان، ص٢٦١</ref>.


== قرآنی حقائق کی روشنی میں ==
== قرآنی حقائق کی روشنی میں ==

مراجعة ١٣:٢٧، ٢٣ فبراير ٢٠٢٤

حضرت امام زمانه حجل الله فرجه الشریف کی بابرکت ہستی سے مربوط بحثوں میں سے ایک بحث آپ ع کی طولانی عمر کے بارے میں ہے؛ بعض لوگوں کے ذھوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انساں ہزار سال سے ذیادہ زندگی کرے جبکہ عام طور پر ایک انساں کی زندگی زیادہ سے زیادہ ٨٠ سے ١٥٠ سال کی ہوتی ہے؟ اور اس شبہ کی اصلی وجہ عام طور پر ایک انسان کی متوسط عمر ٧٠ سے١٠٠ سا ل کے درمیاں ہونا ہے، ورنہ عقلی اور سائنسی اعتبار سے انسان کی عمر طولا نی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جبکه قرآن اور سنت کی آئینے میں خاص کر پر ایک مسلمان فرد جو قرآنی حقائق پر عقیدہ رکھتا ہے اسے کے لیے اس قسم کے سولات بلا وجہ ہے کیونکہ قرآن مجید نے طولانی عمر کے مالک ایسے نمونے بیان فرمائے ہیں جن میں سے بعض سینکڑوں سال سے اب بھی زندہ ہیں.

مقدمه

حضرت حجت علیہ السلام کی بابرکت ہستی سے مربوط بحثوں میں سے ایک بحث آپ ع کی طولانی عمر کے بارے میں ہے؛ بعض لوگوں کے ذھوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انساں ہزار سال سے ذیادہ زندگی کرے جبکہ عام طور پر ایک انساں کی زندگی زیادہ سے زیادہ ٨٠ سے ١٥٠ سال کی ہوتی ہے؟ اور اس شبہ کی اصلی وجہ عام طور پر ایک انسان کی متوسط عمر ٧٠ سے١٠٠ سا ل کے درمیاں ہونا ہے، ورنہ :

عقلي اور سائنسی روسے

عقلی اور سائنسی اعتبار سے انسان کی عمر طولا نی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، نہ ہی عقلی اعتبار سے یہ نا ممکن ہے اور نہ سائنسی رو سے بعید ہے بلکہ سائنسی رو سے طول عمر کے لیے کی جانے والی انسانی کوشیشں اب تک نتیجہ خیز رہی ہیں اور اس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہے ۔ اور آج تک سائنسدانوں نے انسان کی طبیعی عمر کے لئے کوئی حتمی سرحد معیں نہیں کی ہے، اس بارے میں مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں [١].

قرآنی حقائق کی روشنی میں

قرآن اور سنت کی آئینے میں خاص کر پر ایک مسلمان فرد جو قرآنی حقائق پر عقیدہ رکھتا ہے اسے کے لیے اس قسم کے سولات بلا وجہ ہے کیونکہ قرآن مجید نے طولانی عمر کے مالک ایسے نمونے بیان فرمائے ہیں جن میں سے بعض سینکڑوں سال سے اب بھی زندہ ہیں ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد باری ہوتا ہے ........ وَ مَا قَتَلُوهُ يَقِينَا* بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ كاَنَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا * [٢] اور انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا اور بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے کہ نہ صرف حضرت عیسی ع بلکہ جناب خصر پیغمبر؛ جناب الیاس پیغمبر؛ اور جناب ادریس علیہم السلام سبھی زندہ ہیں اور حضرت عیسی ع آخری زمانہ میں امام عصر کے ظھور کے بعد زمین پر تشریف لائیں گئے اور حضرت ولی عصر کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور انکی نصرت کریں گئے ۔ لہذا ابو خاتم سجستانی اپنی کتاب [٣]. میں مستند تاریخی حوالے سے سینکڑوں افراد کو ان کے عمر کے ساتھ بیاں کیے ہیں ان میں سے:

  • حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ٩١٢ سال
  • حضرت نوح کی٢٥٠٠سال

بیاں کیے ہیں ۔

مستند آحاديث کی روشنی میں

جبکہ حضرت حجت عجل اللہ فرجہ کی طولانی عمرکے متعلق ہم سینکڑوں احادیث رکھتے ہیں اور ساتھ میں ہمارا عقیدہ ہے کہ انکی غیبت اور عمر میں طولانی قدرت خدا اور ارادہ خاص پروردگار سے انجام پائے ہیں جبکہ قدرت خدا لامحدود ہے اس میں کسی قسم کی شک وشبہ کی گنجأش نہیں ہے ۔ چنانچہ پروردگار عالم جب ارادہ کرے تو کسی کو قیامت تک زندہ رکھ سکتا ہے جیسا کہ شیطان ھزاروں سال سے اب بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا خود پروردگار عالم قرآن مجید میں حضرت یونس کے متعلق بیان فرماتا ہے : فَلَوْ لَا أَنَّهُ كاَنَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ * لَلَبِثَ فىِ بَطْنِهِ إِلىَ‏ يَوْمِ يُبْعَثُون * [٤]. اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہ جاتے.

مذے کی بات

اور مذے کی بات یہ ہے آج مڈغاسکر (افريقي ممالك مين سے ایک) کے ساحلی علاقے میں ٤٠٠ ملین سال کی ایک مچھلی ملی ہے. [٥]۔ ہذا ہماری نگاہ میں یہ سوال صرف بعض سادہ لوح ذہنوں کو جہالت اور کوتاہ بینی کی وجہ سے الجھاتا ہے.

حوالہ جات

قالب:حوالہ جات زمرہ: اسلامی اصطلاحات زمرہ: شبهات وردود

  1. آیہ اللہ صافي، نوید امن وامان، ص٢٦١
  2. سوره نساء :175
  3. سجستانی، ابوحاتم، المعمرون
  4. صافات :144
  5. محور کا ئنات ص ١١٢